AIOU 5603 Solved Paper STE
Download Paper

ANS 01

’’ بادشاہ سلامت شاید یہ تصور کر لیتے کہ ان کا کوئی جان نثار ان کی سرحدوں کو وسیع کرنے کے لئے بہادری کے جوہر دکھا رہا ہے۔ سپہ سالار اس ہیرو کی جگہ خیالوں میں خود کو مہمات سر کرتے دیکھتا۔اسی طرح خیالوں کی دُنیا میں پرواز کرتے کرتے خواب کی دنیا میں جا پہنچتے ۔ عجب نہیں کہ سپنوں میں بھی یہی دل خوش کرنے والے  منظر نظر آتے ہوں ۔ غرض حقیقت کی سفاک دنیا سے فرارکے بعد داستان  ایک اچھی جائے پناہ تھی ۔ چنانچہ داستان ترقی کرتی رہی اور اس نے ایک باقاعدہ فن کی حیثیت اختیار کر لی۔‘‘  (۲)
بعض لوگوں نے داستانوں کو ’’ دفتر بے معنی‘‘ کہا، بعض نے  ’’ بے عمل سوسائٹی کی پیداوار‘‘  قرار دیا، بعض نے انہیں ’’ تعیش پسندی‘‘ کم ہمتی ، بزدلی اور فراریت کی آئینہ دار بتایا۔ بعض نے کہا کہ ’’ یہ ایسے ماحول کی پیداوار ہے جو ہماری تاریخ اور ہمارے تمدن اور اخلاق کی روایات پر بد نما داغ ہے اور اس زندگی کی مُصور ہے جس کا سرے سے وجود نہیں ، جس میں صرف جن ، دیوؤں  ما فوق الفطرت عناصر ، پریوں اور سحر و طلسمات کے کرشمے موجود ہیں۔ ان اعتراضات کے بارے میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کہتے ہیں کہ:
’’ اگر داستانی ادب ایسا ہی مردود و مطعون ہوتا تو دنیا کی مختلف زبانوں کے عظیم شہ پارے تنقیدی تاریخ میں ادب عالیہ قرار نہ پاتے کیوں کہ تمام عالمگیر ادب فوق الفطرت عناصرسے بھرا ہوا ہے۔‘‘ (۳)
یہ درست ہے کہ داستان اس دور کی پیداوار ہے جب امرا عیش پرستی کا شکار تھے۔ دعوتوں ،شراب کباب اور رقص و سُرور کا اہتمام خصوصیت سے ہو تا تھا،لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ داستان بے عملی کی تلقین کرتی ہے۔ قطعاً درست نہیں ہے۔ داستانیں عمل اور زندگی سے بھر پور ہیں ۔ان میں ہر طرف زندگی کی لہر جاری و ساری ہے۔ کہیں ٹھہراؤ نہیں ، کم ہمتی ، بزدلی اور پاس کا گزر نہیں ،مسلسل عمل ہے، مہمات ہیں ، خیر وشر کے معرکے ہیں ، جستجو ہے اور یہ ساری چیزیں دلوں میں عمل کی اُمنگ پیدا کرتی ہے۔یورپ جس سے آج کا مشرق ماڈرلزم کے بارے میں فیض حاصل کر رہا ہے میں بھی کلاسیکی ادب کا مطالعہ ناگزیر خیال کیا جاتا ہے ۔ بقول ڈاکٹر سہیل بخاری:
’’ یونان کے قدیم رومانوں میں جن کی ابتداء پہلی صدی عیسوی میں مجہول الماخذ مواد سے ہوئی ہے وہی تمام باتیں ملتی ہیں لو بعد کے رومانوں یا اردو داستانوں میں پائی جاتی ہیں۔‘‘ (۴)
مزید آگے لکھتے ہیں کہ قرون وسطی کے مغربی یورپ میں رومان ایک ایسے قصے کو کہتے ہیں جس میں طبقۂ اعلیٰ کی معاشرت پیش کی جاتی تھی۔ شجاعانہ کارناموں کا ذکر ہوتا تھااور عجیب و غریب واقعات و واردات کی مددسے سامعین کی دلچسپی قائم رکھی جاتی تھی۔۔۔۔ بہت سی باتوں میں اردو داستان یورپ کے قدیم رومانوں سے بہت قریب ہے۔یورپ کے کلاسیکی ادب کے مطالعے میں قدیم رومان بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور ظاہر ہے یورپ کے علماء کو علم ہے کہ زبان و ادب کی ابتداء اور اس کے ارتقائی منازل سے و اقفیت کے بغیرآگے نہیں بڑھایا جا سکتا  لہٰذا اس کی تدریس ضروری ہے تو جس سو سائٹی سے ہم نے سائنس و ٹیکنالوجی اور ماڈرلزم کا سبق حاصل کیا اس کی پیروی اگر ادب کے معاملے میں بھی کریں تو کیا حرج ہے۔ بقول ڈاکٹر ایم سلطانہ بخش:
’’ داستان کی بدولت اردو نثر کو پایہ اعتبار ملا۔ وہ بہ یک جہت  بادشاہوں کی بارگاہوں ، امراء کی مجلسوں اور عوام کے اجتماعوں کی روح رواں بن گئی۔اس نے اردو نثر کو فکر و ذہن نہیں دیا بلکہ قلب و نظر اور جذب و تا ثیر بخشی۔ شاعری کے بعد ادبیت کا  سب سے بڑامخزن یہی داستانیں ہیں۔‘‘  (۵)
اس طرح یہ داستان ہی ہے جس کے ذریعے ادب کا طالب علم اپنے تہذیبی و ثقافتی ورثے سے مکمل آگاہی حاصل کر سکتا ہے ۔ بقول ڈاکٹر ایم سلطان بخش :
’’ اگر آج یہ داستانیں موجود نہ ہوتیں ، تو دور حاضر کی علمی و سائنسی ترقی کے باوجود ہماری تمدن زندگی کی عمر کی کئی صدیاں کم ہو جاتیں ۔پاک وہند کی قدیم تہذیب و ثقافت کا ساراقابل اعتماد مواد انہیں داستانوں میں ملتا ہے۔‘‘ (۶)
لہٰذا ماضی سے یعنی ادب کی تاریخ سے آگاہی از بس ضروری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ داستان زبان کی لسانی تاریخ کے سلسلے میں نہایت اہم دستاویز کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ علامات و استعارات ، تلمیحات ، کنایات، علمی و فنی اصطلاحات ، مترادفات، کے نازک فرق اور اختلاف یہ تمام چیزیں بڑی حد تک داستانوں ہی کی مر ہون منت ہیں۔اس طرح زبان و اسلوب سے مکمل آگاہی بھی داستان کے مطالعے سے حاصل ہو سکتی ہے عرض زبان و ادب کی تاریخ میں کلاسیکی ادب کا مطالعہ از بس ضروری ہے ۔ بقول ڈاکٹر ممتاز منگلوری:
’’ داستانوں نے اردو میں زبان و بیان کی وسعتیں پیدا کیں اسلوب کے لئے نئی راہیں نکالیں اور ایک ہی بات کو مختلف انداز میں بیان کرنے کے مختلف ڈھنگ پیدا کیے۔ زندگی اور تجربات اور تخیلات کے وسیع کینوس پر پھیلی ہوئی تصویروں میں رنگ بھرتے ہوئے مناسبت کے لئے زبان و بیان کے جو نئے نئے نمونے اور اعلیٰ نمونے اردو نثر کو ملے ان کے لئے اردو زبان داستانوں کی مر ہون منت ہے۔ داستانوں میں حسن اور دلچسپی کا عنصر بھی ایسا ہے جس سے صرف ِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ (۷)
اس طرح مادی دنیا کے تلخ حقائق کا انسان سامنا کرتا رہااور روح کی تسکین کا سامان نہ کرے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسانی اعصاب چٹخ جاتے ہیں اور شخصیت کی عمارت ڈھا جاتی ہے،ایسے میں داستان پڑھنے سے انسان گویا کسی دوسری خواب آور دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اور وہاں کی دلچسپیوں میں اپنی جسمانی تھکن ،پریشانیوں ، الجھنوں اور مشکلوں کو وقتی طور پر بھول جاتا ہے۔ ڈاکٹر گیان چند کے بقول:
’’ داستانیں ہمیں اس سہانی دنیا میں لے جاتے ہیں جہاں ظالم حقیقتوں کا گزر نہیں۔ یہ احمقوں کی بہشت سہی، کبھی کبھار عاقلوں کے دوزخ سے نکل کر خیالی بہشت میں چہل قدمی کرنا خود فریبی سہی، لیکن اس مستانہ لڑ کھڑاہٹ کے بیان میں ایک جاذبیت ہوتی ہے۔‘‘  (۸)
غالب نے اسی بات کو یو ں بیان کیا ہے۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال  اچھا  ہے   (۹)
داستانوں کی افادیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں ہماری گزشتہ سو سائٹی کی معاشرت کے بھر پور نقشے موجود ہیں۔ دلی اور لکھنوء کی معاشرت کی تصویریں ان صفحات میں اتنی روشن اور نمایاں ہیں کہ شاید ہی کوئی تاریخ مد مقابل بن سکے اور صرف معاشرت ہی نہیں بلکہ عقائد و روایات اور انداز فکر کی بھی پوری پوری عکاسی کی گئی ہے۔ ’’ باغ و بہا ر‘‘ میں میر امن نے چین ، ایران اور عجم کے نام پر در اصل ہندوستانی تہذیب کو پس منظر کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس داستان کے آئینہ میں دہلوی معاشرت کے مصنف کے عہد کا عکس واضح دیکھا جا سکتا ہے۔بقول ڈاکٹر سید عبداللہ:
’’ باغ و بہار میں دلی کی تہذیب بول رہی ہے۔‘‘ (۱۰)
اس سلسلے میں سب سے پہلے ’’ باغ و بہار ‘‘ کے کرداروں پر نظر پڑتی ہے یہ کردار شام، یمن ،چین ،دمشق ، ایران اور روم میں گھومتے ہیں۔ مگر ان کے آداب ، رُسوم ،روایات اور انداز گفتگو سبھی پر ہندوستانی بلکہ دلی کی تہذیب کی چھاپ لگی نظر آتی ہے۔ مختلف النوع کرداروں کی تصویر کشی میں تمام رنگ ہی ہم عصر معاشرہ اور تمدن سے لیے گئے ہیں۔ ’’ باغ وبہار‘‘ میں میر امن نے جن دعوتوں کی منظر نگاری کی ہے ان سے یہ رنگ اور بھی غالب ہو جاتا ہے اس میں جن محافل و تقریبات کا نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ان میں شرفائے دلّی کے اخلاق و کردار کے مرقعے ملتے ہیں۔ دلّی کی معاشرت ، خوشحال ، خوش پوش اور خوش وقت معاشرت تھی۔ تکلف و اہتمام اور آرائش اس معاشرے کے تہذیبی امتیاز میں شامل تھا۔شاہی درباروں اور نوابوں کی حویلیوں میں کسی شے کی کمی نہ تھی۔ اس لئے ’’باغ و بہار‘‘ کی مخافل میں ہمیں اس زمانے کے شاہی ٹھاٹھ ملتے ہیں۔ ساز وسامان کی کثرت کا تصور دلانے کے لئے اور ایون نعمت کی رنگا رنگی دکھانے کے لئے مصنف نے بعض اوقات مختلف موسموں کے پھل ایک ہی جگہ جمع کر دیے ہیں۔ اس داستان میں کم از کم پچاس کھانوں کے نام گنوائے بغیر دعوت روکھی پھیکی اور بے مزہ سمجھی جاتی ہے۔ بقول میر امن:
’’ چار مشقاب، ایک میں یخنی پلاؤ ، دوسری میں قورمہ ،تیسری میں متنجن پلاؤ اور چوتھی میں کو کو پلاؤ ،اور ایک قاب زردے کی، اور کئی طرح کے قلپے ، دو پیازہ نرگس۔۔۔۔۔ مربہ ، اچار دان ، دہی کی قلفیان ۔‘‘(۱۱)
’’باغ وبہار‘‘ میں اس عہد کے عقائد و میلانات کی جھلک بھی نظر آتی ہے ۔عوام کے افکار توہمات ، ذہنی رجحانات و جذباتی کیفیات سب کچھ موجود ہے۔ بقول ڈاکٹر ایم سلطانہ بخش:
’’ باغ و بہارایک تہذیب کی آواز بھی ہے اور اپنے عہد کے ذہنی رجحانات کی عکاسی بھی۔‘‘ (۱۲)
اسلامی ہند میں لڑکی کی شادی کے موقع پر زنان خانے میں مسّرت و شادمانی کے اظہار کے لئے جو اہتمام کیا جاتاتھا۔ میر امن نے اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔
’’ اتفاقاًجس دن وزیر کو محبوس خانے میں بھیجا ، وہ لڑکی اپنی ہم جولیوں میں بیٹھی تھی اور خوشی سے گڑیا کا بیاہ رچایا تھااور ڈھولک پکھاوج لئے ہوئے رت جگے کی تیاری کر رہی تھی۔‘‘ ( ۱۳)

ANS 02

1857 کی جنگ آزادی میں  آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی شکست ہوگئی، اور مکمل طور سے مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔ 1857 کی جنگ آزادی سے ہندوستانی مسلمانوں  کا جانی و مالی نقصان سب سے زیادہ ہوا، اس کی وجہ یہ تھی اس جنگ میں  مسلمانوں  نے سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور انگریزوں کا ماننا تھا کہ ہندوستانی مسلمان ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں ،  اس جنگ آزادی کے ردِّعمل میں  مسلمانوں  کا سب سے زیادہ خسارہ ہوا۔ غدر 1857 نے حکومت کو ہندوستانیوں  خاص کر مسلمانوں  سے حد سے زیادہ برہم کردیا جس کے نتیجے میں  مسلمانوں  کی زندگی اس ملک میں  دشوار ہوگئی۔ کتنے مسلمانوں  کو غدر کے الزام میں  سزائے موت دے دی گئی کتنے کے گھروں  کو اجاڑ دیا گیا۔ ان کی جائیدادیں  اور ان کی املاک کو ان سے نہایت بے دردی سے چھین لیا گیا ان پر روزی روزگار کے تمام راستے بند کردئیے گئے مسلمان زمینداروں ،  تعلقہ داروں  اور اس قوم کے سربرآوردہ اشخاص کی عزت و آبرو سبھی کچھ برباد کردی گئی، غریب مسلمانوں کے چھوٹے موٹے پیشے اور کاروبار کو تباہ کردیا گیا جس سے صنعت گر، اور ہنرمند مسلمانوں  کی بھی روزی ماری گئی۔ اس طرح مسلمانوں  کے اندر معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی ہر اعتبار سے بدحالی پیدا ہوگئی۔

سرسیداحمد خان نے 1857 کی تباہی کو اپنی آنکھوں  سے دیکھا تھا۔ اس نازک دور نے سرسید کو ذہنی کشمکش اور عجیب پریشانی میں  مبتلا کردیا تھا۔ انھوں  نے ہندوستانی مسلمانوں  کی فلاح و بہبود کے لیے برطانوی نظر سے مسلمانو ں کے خلاف قائم کو دور کرنے کی پیہم کوشش کی اور مسلمانوں  کی فوز و فلاح کے لیے مشکل سے مشکل کام کرنے کا عزم مصمم کرلیا اور وہ اپنے اس عظیم مقصد میں  کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔

اس تحریک کےکئی پہلوئوں میں نئے علوم کا حصول،  مذہب کی تفہیم،  سماجی اصلاح اور زبان و ادب کی ترقی اور سربلندی شامل ہیں۔ جبکہ رشید احمد صدیقی لکھتے ہیں کہ اس تحریک کے مقاصد میں مذہب،  اردو ہندو مسلم تعلقات،  انگریز اور انگریزی حکومت، انگریزی زبان،  مغرب کا اثر اور تقاضے وغیرہ چند پہلو شامل ہیں

سرسید احمد خاں برصغیر میں مسلم نشاتِ ثانیہ کے بہت بڑے علمبردار تھے۔ انہوں نے مسلمانوں میں بیداری علم کی تحریک پیدا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ انیسویں صدی کے بہت بڑے مصلح اور رہبر تھے۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو جمود سے نکالنے اور انھیں با عزت قوم بنانے کے لیے سخت جدوجہد کی آپ ایک زبردست مفکر، بلند خیال مصنف اور جلیل القدر مصلح تھے۔ ” سرسید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا بیڑا اس وقت اٹھایا جب زمین مسلمانوں پر تنگ تھی اور انگریز اُن کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔ وہ توپوں سے اڑائے جاتے تھے، سولی پر لٹکائے جاتے تھے، کالے پانی بھیجے جاتے تھے۔ اُن کے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی۔ اُنکی جائدادیں ضبط کر لیں گئیں تھیں۔ نوکریوں کے دروازے اُن پر بند تھے اور معاش کی تمام راہیں مسدود تھیں۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ اصلاح احوال کی اگر جلد کوشش نہیں کی گئی تو مسلمان ” سائیس، خانساماں ، خدمتگار اور گھاس کھودنے والوں کے سوا کچھ اور نہ رہیں گے۔ … سر سید نے محسوس کر لیا تھا کہ اونچے اور درمیانہ طبقوں کے تباہ حال مسلمان جب تک باپ دادا کے کارناموں پر شیخی بگھارتے رہیں گے۔۔۔۔ اور انگریزی زبان اور مغربی علوم سے نفرت کرتے رہیں گے اُس وقت تک وہ بدستور ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ اُنکو کامل یقین تھا کہ مسلمانوں کی ان ذہنی اور سماجی بیماریوں کا واحد علاج انگریزی زبان اور مغربی علوم کی تعلیم ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر وہ تمام عمر جِدوجُہد کرتے رہے اور اسی مقصد کو مد نظر رکھ کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی.

 افکار ونظریات!

سر سید کی نمایاں سرگرمیوں کی وجہ سے ان کی دو حیثیتیں متعین کی جاسکتی ہیں۔

(1) ایک تعلیمی معمار کی

(2) دوسری مذہبی مصلح کی

اپنی پہلی حیثیت میں سر سید نے تعلیم کے ذریعے مسلمانوں کی معاشرتی اور معاشی ترقی کے لیے متحدہ ہندوستان میں تحریک چلائی، اسے تاریخ میں ’’علی گڑھ تحریک‘‘ کے نام سے جانا جاتاہے، جو مدرسۃ العلوم (علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی)کی شکل میں بارآور ہوئی۔معرکۂ ستاون کے بعد مسلمانوں کی تعلیمی، معاشرتی اور معاشی بدحالی پر اس تحریک نے جس طرح قابو پایاہے، اس کا اعتراف بلا تفریق مذہب وملت سب کو ہے۔

سرسید کی دوسری حیثیت مذہبی مصلح کی ہے۔اپنی اس حیثیت میں انہوں نے مسلمانوں کی مذہبی اصلاحات کا آغازکیا اور مذہبی خیالات کے زیر اثر جو تعلیمی،  معاشی اور معاشرتی حد بندیاں مسلمانوں نے مقرر کی تھیں ، انھیں ختم کرنے کی کوشش کی، نیز عیسائی حکمراں اور مستشرقین اسلام کے جن اصولوں پر معترض تھے، ان کی توجیہہ وتشریح عقل وسائنس کے ذریعے کرنے کی بنا ڈالی۔جو ان کے مقاصد کی تکمیل میں مانع تھا، یہاں تک کہ ہندوستان میں اس طرح کے خلاف جمہور عقیدوں پر مشتمل ایک ایسا فرقہ ظہور میں آگیاجو اعتزال کی ایک نئی شکل تھی، جو بلا شبہ تعقل پسندی اور نیچرل سائنس پر استوار تھا جسے ’’فرقۂ نیچریہ ‘‘ سے تعبیر کیاگیا۔در اصل سرسید کا یہی فعل ان کی ذات سے شروع ہوکر ان کی تعلیمی تحریک کی مخالفت کا سامان بن گیا۔

اس اعتراض کو سمجھنے کے لیے سر سید کے مذہبی عقائد وافکار کوجاننا ضروری ہے، جس سے مسئلے کی سنگینی اور علما کے مخالفانہ رویے کی صحت اور جواز کا اندازہ ہوسکے گا۔سرسید کے چند مذہبی عقائد بطور منشے نمونہ از خروارے حسب ذیل ہیں :

(1) ملائکہ اور فرشتوں کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔

(2) نبی پر متعارف فرشتوں کے ذریعے وحی نہیں ہوتی، بلکہ خارجی طور پر وحی کا سرے سے کوئی وجود نہیں۔

(3) معراج اور شق صدر کے واقعات رؤیا کا فعل ہے۔

(4) قرآن میں جن یا اجنہ کے الفاظ آئے ہیں ، ان سے مراد پہاڑی اور صحرائی لوگ ہیں ، نہ کہ وہ وہمی مخلوق جو بھوت اور دیووغیرہ کے الفاظ سے مفہوم ہوتی ہے۔

(5) جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس پتھر کے بنے ہوئے چوکھونٹے گھر(کعبہ)میں ایک ایسی متعدی برکت ہے، جہاں سات دفعہ اس کے گرد پھرے اور بہشت میں چلے گئے، یہ ان کی خام خیالی ہے۔کوئی چیز سوائے خداکے مقدس نہیں ہے۔

(6)متحنقۂ اہل کتاب یعنی ایسے پرندے یا جانور جسے اہل کتاب نے گلا گھونٹ کر ماراہو، اس کاکھانا مسلمانوں کو جائز ہے۔

(6)حساب کتاب، میزان اور جنت ودوزخ کا کوئی خارجی وجود نہیں ، ان سے متعلق قرآن میں جو ارشادات ہیں وہ بطریق مجاز، استعارہ اور تمثیل کے ہیں۔

(8) قرآن مجید کی کسی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ حضرت عیسی بن باپ کے پیداہوئے یا آسمان پر اٹھالیے گئے۔

(9)اﷲ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کاکوئی خارق عادت نشان دکھاہی نہیں سکتا۔کیوں کہ اگر ایساہواتو اس کی عظمت وقدرت وصنعت کو بٹالگے گا۔

سر سید کے یہ تمام عقائد ان کی تفسیر’’تفسیر القرآن‘‘سے ماخوذ ہیں ، جس کے بارے میں مولاناالطاف حسین حالیؔ نے اپنے ایک مضمون ’’سر سید اور مذہب‘‘میں لکھاہے جو مئی 1898ء میں علی گڑھ میگزین میں شائع ہوا:

’’بہت سے مقامات ان کی تفسیر میں ایسے موجودہیں ، جن کو دیکھ کر تعجب ہوتاہے کہ ایسے عالی دماغ شخص کو کیسے ایسی تاویلات باردہ پر اطمینان ہوگیا اور کیوں کر ایسی فاش غلطیاں ان کے قلم سے سرزدہوئیں ‘‘۔(حیات شبلی، ص:237)

نتائج

آپ نے ایک بار پھر دین میں عقل کا دروازہ کھول دیا جس کے نتائج آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ آپ کے بعد آنے والوں نے آپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عقل کی بنیاد پر طرح طرح کے عقائدِ فاسدہ گھڑلیے۔ جن سے عوام میں کفرو شرک کی طرف لے کر جانے والے عقائد عام ہوئے اور بدعات کو عقلی تائید بھی حاصل ہو گئی۔ جیسے مرزا قادیانی کا قرآن کی عقلی تاویل کرنا اور خاتمِ نبوت کے عقیدہ سے انکار کرنا، مولانا احمد رضا خاں صاحب کا عقلی دلائل کی بنیاد پر جلوسِ میلاد، ختم اور چالیسواں جیسی رسوم کو پھیلانا، غلام احمد پرویز صاحب کا عقل کو کسوٹی بنا کر احادیث کا انکار کرنا اور جاوید احمد غامدی صاحب کاعقل و تدبراور اجتہادکے نام پر اجماعی اصطلاحاتِ دین اور اصول فقہ کی خود ساختہ تعبیرات پیش کرنا وغیرہ۔ ان سب صاحبان کے علم کا دروازہ جناب سر سید احمد خان سے ہی کھلتا ہے۔

ANS 03

امراؤ جان ادا مرزا محمد ہادی رسوا کی معرکۃ الآرا تصنیف ہے ،اسے معاشرتی ،نفسیاتی اور تاریخی ناولوں میں اہم مقام حاصل ہے ،اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ ایک صدی گزرنے کے بعد بھی اس کی روح اور کشش میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ وہی لطف آج بھی موجود ہے ،اس ناول میں فیض آباد سے اغوا شدہ لڑکی امیرن کا قصہ بیان کیا گیا ہے ،جسے امراؤ جان ادا کے نام سے لکھنؤ میں ایک طائفہ کی زندگی بسر کرنا پڑی ،رسوا نے اس ناول میں لکھنؤ کی معاشرتی ،تہذیبی اور ادبی جھلکیوں کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی ،اس ناول پریہ اعتراض ممکن ہے کہ رسوا نے طوائف کے کوٹھے کا ہی کیوں انتخاب کیا ؟ اس کا عام فہم جواب یہی ہے کہ اس وقت طوائف کا کوٹھا ہی لکھنؤ میں تہذیبی اور ادبی مرکز تھا اور اس سے نواب ،روسا اور شرفا سے لے کر مولوی ،ڈاکو ،شاعرو شاعرات تک سبھی وابستہ تھے ،اس ناول میں کرداروں کی بڑی تعداد ہے ،اس کے علاوہ پلاٹ ،تکنیک اور تہذیبی منظر کشی بھی بہت عمدہ ہے ،رسوا نے کرداروں کو اس انداز سے سمویا ہے کہ قصہ کی اصلیت و واقعیت میں قاری کو ذرہ برابر بھی شبہ نہیں ہوتا اور شروع سے آخر تک تجسس و جستجو کی کیفیت برقرار رہتی ہے .،اس کا اسلوب سادہ ہے اور زبان بھی عام فہم ہے ،واحد متکلم اور بیانیہ کی تکنیک استعمال کرکے رسوا نے اس ناول کو آگے بڑھایا ہے ،جس طرح سونار سونے کے ہارمیں ہیرے جڑتے ہیں اسی طرح رسوا نے نثر کے درمیان شاعری کو شامل کیا ہے ،اس کی وجہ سے اس کی خوبصورتی مزید دوبالا ہو گئی ہے ۔ .

مرزا محمد ہادی رسوا : .

مرزا محمد ہادی رسوالکھنؤ کے ایک محلہ کوچۂ آفریں خاں میں 1858ء میں پیدا ہوئے ،ان کے والد کا نام مرزا محمد تقی تھا جو آصف الدولہ کی فوج میں ملازم تھے ،رسوا ذہین انسان تھے ،انہوں نے عربی،فارسی،ریاضی،نجوم،منطق اور فلسفہ کا علم حاصل کیا اور 1885ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فلسفہ میں بی اے کیا ،پھر موسیقی وغیرہ بھی سیکھی اور مختلف جگہ ملازمت وغیرہ کرنے کے بعد دارالترجمہ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد میں ملازم ہوئے اور وہیں 21اکتوبر 1931ء کو انتقال ہوا ،ان کے معاشرتی ناولوں میں افشائے راز ،شریف زادہ ،ذات شریف اور اختری بیگم اہم ناول ہیں ،اس کے علاوہ کچھ جاسوسی ناول بھی ہیں جس میں خونی جورو،خونی شہزادہ ،خونی مصور،بہرام کی رہائی ،خونی بھید اور خونی عاشق وغیرہ ہے،اس کے علاوہ مرزا رسوا ایک اچھے شاعر بھی تھے ان کی شاعری کا نمونہ امراؤ جان ادا اور دیگر ناولوں میں دیکھا جا سکتا ہے ،شاعری میں رسوا محمد جعفر اوج اور مرزا دبیر سے اصلاح لیتے تھے ۔ .

سن تصنیف : .

شائع ہونے کی صحیح تاریخ کا علم تو کسی کو نہیں ؛البتہ امراؤ جان ادا پر جو انہوں نے دیباچہ . لکھا ہے اس میں 1899ء کی تاریخ درج ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسوا نے یہ معرکۃ الآرا ناول 1899ء میں لکھی ۔ .
موضوع : ناقدین اور محققین میں سے بعض حضرات نے اس کا موضوع طوائف کو قرار دیا ہے تو بعض نے لکھنؤ کے معاشرتی زوال کو ،مگر سنجیدگی سے اس کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ لکھنؤ کا معاشرہ ،زوال آمادہ تہذیب اور طوائف سب کچھ اس کا موضوع ہے ،رسواؔ کا بنیادی مقصد زوال آمادہ تہذیب اور اس میں رہنے والے لوگوں کی ذہنیت اور معیارات فخر کو سامنے لانا تھا ،اس زمانہ میں چوں کہ طوائف کے بالا خانوں سے ہر طرح کے لوگ وابستہ تھے ا س لیے انہوں نے اسے بنیاد بنا کر پوری تہذیب کی تاریخی اور نفسیاتی مرقع کشی بہت خوبصورتی سے کی ۔ . مختصر قصہ : اس ناول کی سب سے اہم کردار اور ہیروئن امیرن فیض آباد کے ایک جمعدار کی لڑکی تھی ،ان کے پڑوس میں دلاور خان نامی ایک بدمعاش رہتا تھا ،گواہی کے سلسلہ میں اس سے اس کے والد کی نوک جھونک ہوئی ،امیرن کے گھر کے پاس املی کے پیڑکے نیچے بھائی کو کھلا رہی تھی کہ دلاور خان نے اسے اغوا کرلیا اور لکھنؤ لاکر ایک سرغنہ عورت خانم کے ہاتھوں فروخت کر دیا ،جس نے امیرن کو موسیقی ،شعرو شاعری اور دیگر چیزوں کی تعلیم دلا کر ” امراؤ جان ادا ” بنا دیا اور جلد ہی رؤسا ،نواب زادے اور دیگر عیش و عشرت کے دلدادہ حضرات اس کے کوٹھے پر آنے لگے اور امراؤ جان مجرے وغیرہ محفلوں کی بھی زینت بننے لگی ،اسی دور میں فیض علی نام کا ایک ڈاکوبھی وہاں آنے لگا اور اس قدر دولتیں لٹانی شروع کی کہ امراؤ جان اسے اپنا دلدادہ اور سچا . عاشق سمجھ کر اس کے ساتھ فرار ہو گئیں ،مگر راستہ میں جب فیض علی گرفتار ہوا تو پتہ چلا یہ تو ڈاکو ہے ،درمیان میں مختلف واقعات پیش آئے اور امیرن کانپور چلی گئیں ،جہاں سے بعد میں گوہر مرزا اور بواحسینی لکھنؤ لے آئے اور 1857ء کے غدر میں جب لکھنؤ لٹ گیا تو فیض آباد چلی گئی ،جہاں ایک مرتبہ ان کے اپنے آبائی گاؤں میں اسی املی کے درخت کے نیچے مجرے کی محفل میں شرکت کرنی پڑی ،جہاں وہ کھیلا کرتی تھی ،یہاں والدہ اور بھائی کی نظر پڑی جو قتل پر آمادہ ہوگیا ،اس کے بعد وہاں سے واپس چلی آئی اور قصہ کے آخر میں دلاور خان بھی جرم کے پاداش میں گرفتار ہوا ،یہ تو سرسری طور پر قصہ کو بیان کیا گیا ورنہ پچیس حصوں میں پورا قصہ ہے اور جگہ جگہ شاعری کی مجلسیں بھی خوب آراستہ ہوئی ہیں ۔ . پلاٹ : واقعات کے پورے ایک ڈھانچہ کو پلاٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے ،امراؤ جان ادا ناول کا پلاٹ انتہائی مضبوط اور لاجواب ہے ،عام طور پر دوہرے پلاٹ والے ناولوں میں پلاٹ مربوط کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ،مگر مرزا ہادی رسوا کا کمال ہے کہ انہوں نے واقعات کے درمیان ایسا فطری اور منطقی ربط قائم رکھا کہ سارے واقعات ایک دوسرے سے جڑ گئے اور ایسی کشش پیدا ہو گئی کہ قارئین اس کی طرف خود بخود کھنچے چلے جاتے ہیں ،اسی سے مرزا ہادی رسوا کے مہارت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے پروفیسر اشرف رفیع نے اس کے پلاٹ کے متعلق اس انداز سے اظہار خیال کیا ہے کہ ” امراؤ جان ادا پلاٹ کے حساب سے ایک غیر معمولی ناول ہے ،اس کا پلاٹ نہ تو فسانہ آزاد کی طرح ڈھیلا ڈھالا ہے اور نہ نذیر احمد کی ناولوں کی طرح کسا بندھا ” یہ حقیقت ہے کہ اس ناول . کا پلاٹ معتدل ہے ،پورے ناول میں جتنے بھی واقعات ہیں سب امراؤ جان ادا کے ہی ارد گرد گھومتے ہیں خواہ اغوا کا واقعہ ہو یا ڈاکہ زنی کا امیروں کے کوٹھے پر آنے کا یا پھر شعر و شاعری اور مجرے کا ۔ . .

امراؤ جان ادا ناول میں مرزا رسوا نے واحد متکلم والی تکنیک استعمال کرکے مکالماتی انداز میں ناول کو آگے بڑھایا ہے یہ بڑا دلچسپ پہلو ہے اس سے نئی دلکشی پیدا ہو گئی ہے ،اس کے علاوہ بیانیہ تکنیک کا استعمال ہوا ہے ،رسوا کرید کرید کر امراؤ جان سے سوالات کرتے ہیں اور وہ جواب دیتی چلی جاتی ہے ،بسا اوقات ایسا موقع آتا ہے کہ اگر امراؤ جان بلا جھجک اپنی آپ بیتی بیان کردیں تو لوگ اسے بے حیا قرار دیں ،مگر کرید کرید کر رسوا امراؤ جان کے منھ سے بات نکلواتے ہیں اور بعض موقع پر وہ بہت کچھ کہنا چاہتی ہے ،مگر رسوا ” کہنے دیجیے ” کہ کرٹال دیتے ہیں ،اس کے علاوہ کبھی ایسی سنسنی خیز واقعات سامنے آتے ہیں کہ اچھے سے اچھے سخت دل آنکھوں سے بھی آنسو نکل پڑیں ،اس سے رسواکی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے کہ نفسیاتی کیفیات اور جزئیات نگاری پر کتنا دسترس رکھتے تھے اور ایک شاندار اینکر کا رول ادا کرکے اپنی حیثیت سبھی سے منوا بھی لی ۔